نئی دہلی ،یکم جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے خلاف جنگ میں غیر معمولی جوانمردی کا نمونہ پیش کرنے والے ملک کے لیے قربانی دینے والوں میں ’پرمویرچکر‘سے نوازے گئے عبد الحمید کا نام بھی پورے احترام سے لیا جاتا ہے۔یوپی کے عبدالحمید نے 1965کی پاک وہند جنگ میں تن تنہا دشمن کے کئی ٹینکوں کو تباہ کر کے ہندوستانی خیمے میں زبردست جوش کی لہر پیداکردی تھی ۔بہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے تقریبا اکیلے اس کام کو انجام دیا تھا۔ ملک کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے اس جانبازکو مہاویر چکر اور پرمویر چکر سے نوازاگیا تھا۔آج ہی کے دن یعنی یکم جولائی، 1933کو یوپی کے غازی پور ضلع میں ایک متوسط مسلم خاندان میں پیدا ہوئے حمید کو بچپن سے ہی بہادری کا کام کرنے میں مزہ آتا تھا۔کشتی کے شوقین حمید کو لاٹھی چلانے کے علاوہ سوئمنگ کرنے میں بھی مزہ آتا تھا۔فوج کے جوانوں کو دیکھ کر نوجوان عبدالحمید کے ذہن میں عجب سا جوش بھر جاتا تھا اور ملک کی خدمت کرنے کی خواہش ان کے دل میں انگرائیاں لینے لگتی تھی۔ملک کی خدمت کے اپنے اس جذبے کو پورا کرنے کے لیے وہ 1954میں فوج میں بھرتی ہوئے اور گرینیڈیئر س انفینٹری ریجمنٹ میں کی خدمات دینی شروع کی۔کام کے تئیں اپنی لگن کی وجہ سے جلد ہی انہوں نے دیگر ساتھیوں کے درمیان اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔
فوج نے بھی ان کی قربانی کے جذبہ کی قدر کرتے ہوئے انہیں لانس نائک کے طور پر پروموٹ کر دیا۔1962کی ہندوستان - چین جنگ میں بھی کرنل عبدالحمید کو فوجی کے طور پر ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔تاہم دشمن کے چھکے چھڑانے کی ان کی خواہش 1965کی جنگ کے دوران مکمل ہوئی ۔پاک فوج نے حملہ بول دیا۔10؍ستمبر 1965کو دشمن کی فوجیں آگے بڑھیں اور امرتسر تک جا پہنچی۔پاکستانی فوجیوں کو ملک کی سر زمین پر دیکھ کر تومانو جیسے کرنل عبدالحمید کا خون کھول اٹھا۔انہوں نے طے کیا کہ دشمن کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔اس کے لیے انہوں نے پاکستان کے ٹینکوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے کی ٹھان لی ۔پاکستان کے پیٹن ٹینکوں کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کرعبدالحمید نے ایسا کارنامہ انجام دیا جس کا تصور دشمن کی فوج نے خواب میں بھی نہیں کیا تھا۔اپنی جیپ کو انہوں نے بلند مقام پر لے جا کر تابڑ توڑ گولے برسائے اور تین ٹینکوں کو تباہ کر ڈالا۔غورطلب ہے کہ امریکہ میں تیارشدہ پیٹن ٹینکوں کو پاکستان کی فوجی صلاحیت کے لحاظ سے بے حد اہم سمجھا جاتا تھا۔تاہم اس کارنامہ کو انجام دینے میں ان کو اپنی جان کی قربانی دینی پڑی۔پاکستانی فوج کی جوابی فائرنگ میں انہیں جان گنوانی پڑی لیکن ان کے اس جرات مندانہ کارنامہ کی وجہ سے دشمن کی فوج کے حوصلے پست ہو گئے اور بعد میں اسے الٹے پاؤں واپس لوٹنے کو مجبور ہونا پڑا۔اور محض 33سال کی عمر میں انہوں نے ملک کے لیے انی جان نچھاور کر دی۔حمید کے اس جذبے کو سلام کرتے ہوئے فوج نے انہیں اپنے سب سے بڑے اعزاز پرمویر چکر سے نوازا، یہ اعزاز ان کی بیوہ رسولن بی نے حاصل کیا۔فوجی ڈاک سروس نے10؍ستمبر 1979کو ان کے اعزاز میں ایک خصوصی لفافہ جاری کیا ہے۔2000میں ملک نے اپنے اس بہادرسپوت پرایک خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔چوتھی گرینیڈیئر س نے عبد الحمید کی یاد میں سرحد پران کامزارتعمیرکیا ہے یہاں ہر سال ان کے یوم شہادت کے موقع پر تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔واقعی پورے ملک کو اپنے اس بہادر سپوت عبد الحمید پر ناز ہے۔